643

پاک شراکت – پادری کرامت مسیح

خداوند یسوع مسیح نے مسیحی کلیسیا کو صرف دو ساکرامنٹ دئے ہیں۔
1۔اصطباغ/ بپتسمہ
2۔ پاک شراکت
آج ہم پاک شراکت کے ساکرامنٹ پر غور کریں گے۔اس کے لئے دیگر نام بھی مستعمل ہیں مثلاً عشائے ربانی، فسح، مسیح کے بدن اور خون میں شامل ہونا اور پاک میز وغیرہ۔ان ناموں کی حقیقت اس عظیم واقعہ کے ساتھ جوڑی ہوئی ہے۔جوکہ متی 26باب1-16 میں درج ہے۔عیدفسح سے دو دن پیشتر شیطان یہوداہ اسکریوتی میں سما گیا ۔اور یہوداہ نے سردار کاہنوں سے ساز باز کی کہ وہ یسوع کو تیس روپوں کے عوض پکڑوائے گا۔جوکہ ایک غلام کی قیمت تھی (خروج 32:21)۔
عید کے پہلے دن شاگرد یسوع کے پاس آکر کہنے لگے، تو کہاں چاہتا ہے کہ ہم تیرے لئے فسح کھانے کی تیاری کریں؟
اُس نے کہا شہرمیں فلاں شخص کے پاس جاکر اُس سے کہنا اُستاد فرماتا ہے کہ میرا وقت نزدیک ہے۔میں اپنے شاگردوں کے ساتھ تیرے ہاں عیدفسح کرونگا۔

میراوقت نزدیک ہے
یہ اُس وقت کی طرف اِشارہ ہے جو خدا نے یسوع مسیح کی موت کیلئے مقرر کیا تھااور کُل جہاں کی مخلصی کا وعدہ کیا۔عیدفسح کی یہ ضیافت آخری کھانا تھا جو یسوع مسیح نے اپنی موت سے پہلے شاگردوں کے ساتھ کھایا ۔
یسوع مسیح نے اس کھانے کو اپنی موت کے نشان سے تعبیر کیا جو لوگوں کے لئے خدا کے ساتھ ایک نئے تعلق/عہد میں داخل ہونے کا ذریعہ ہوگی۔ اس کے بارے میں پولوس رسول فرماتے ہیں، یسوع نے جس رات وہ پکڑوایا گیا روٹی لی۔اور شکر کر کے توڑی اور کہا یہ میرا بدن ہےجو تمہارے لئے ہے۔ میری یادگاری کے واسطے یہی کیا کرو۔ اِسی طرح اس نے کھانے کے بعد پیالہ بھی لیا اور کہا یہ پیالہ میرے خون میں نیا عہد ہے۔ جب کبھی پیو میری یادگاری کے لئے یہی کیا کرو۔1 کرنتھیوں 11باب 23-25

یہ میراوہ عہدکاخون ہے
یعنی میرا خون خدا کے عہد پر مُہر ہے یسوع مسیح ایک نیا عہد باندھ رہا ہے جس کا ذِکر یرمیاہ نبی نے کیا تھا۔
یرمیاہ31باب 31-33 کو پڑھیں۔
جو عہد خدا نے بنی اسرائیل سے باندھا تھا اُس کی تصدیق قربانی کے جانوروں کا خون چھڑکے جانے سے ہوتی تھی خروج 8:24 لیکن نئے عہد کی تصدیق یسوع مسیح کی موت اور اُسکے بیش قیمت خون سے ہوئی ہے۔

میری یادگاری کیلئےیہی کیاکرو
پاک شراکت عام کھانا نہیں ہےاور نہ ہی یہ انسان کی مرضی پر منحصر ہے انسان یہ نا سمجھے کہ اگر دل چاہے تو اس میں شریک ہوگیا اگر دل نہ چاہے تو شریک نہ ہوا۔جو لوگ اس میں شریک نہیں ہونگے انھیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ اختیاری بات نہیں بلکہ یسوع کا حکم ہے۔اسکی حکم عدولی سے گریز کریں کیونکہ لکھا ہے کہ حکم ماننا قربانی چڑھانے سے بہتر ہے۔اس میں شرکت یسوع کی حاکمیت اور خداوندہونے کو ماننا ہے۔

اس میں دوسروں کی خدمت کابھیدپوشیدہ ہے(یوحنا 13باب4-5)
یسوع نے پاک شراکت سے پہلے اپنے شاگردوں کے پاوں دھوئے۔ یہ غلام کا کام تھا جوآقا نے سر انجام دیااور یہ سکھایا کہ ہم میں سے ہر ایک خودانکاری کا جذبہ رکھے کوئی اپنے آپ کو دوسروں سے افضل نہ سمجھے بلکہ خدمت کیلئے تیار رہے۔آج کے مسیحی نے اونچ نیچ کی دیواریں کھڑی کر رکھی ہیں۔بعض لوگ عہدوں کی آڑ میں حاکم بنے بیٹھے ہیں اور دوسروں کو حقیر سمجھتے ہیں۔خدمت میں دکھ،محنت،جدوجہد شامل ہیں اس کیلئے تیار رہیں۔

جب تک وہ نہ آئے
ان الفاظ میں ایک زندہ امید کا تاثر ملتا ہے۔ ایک حد مقرر کی گئی کہ کب تک ہم پاک شراکت کا سلسلہ جاری رکھیں، جب تک وہ نہ آئے۔یعنی ہماری اُمید ہے اور پاک شراکت ہمیں یاد دلاتی ہے مسیح جو ہماری خاطر قربان ہوگیا، جس نے خون بہایا،ہمیں خدا کےخاندان کا حصہ بنایا، وہ آسمان پر زندہ اٹھایا گیا اور واپس بھی آئے گا تاکہ ہمیں اپنے ساتھ لے جائے۔ خدا ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم اُس کی یادگاری میں ایک روٹی اور ایک ہی پیالے میں شریک ہوں اور اُس کی شراکت میں پختہ ہوتے جائیں آمین۔

پادری کرامت مسیح
بہاول پور۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں