445

ابلیس کے ہتھکنڈے

مضمون: ابلیس کے ہتھکنڈے
حوالہ: لوقا 8باب۔ 26تا39 آیات کو پڑھیں۔
بائبل مقدس میں ابلیس کے کام کرنے کے کئی طریقے بیان کئے گئے ہیں۔
الزام لگانا بھیس بدل کر۔بیماری لاکر۔ آزمائش کے ذریعہ سے۔لیکن اس انجیلی بیان میں ابلیس کےکام کرنے کے طریقہ کار کا ذکرہے ان پر غور کریں گے۔

دماغ کو مفلوج کر دینا۔
جب ابلیس کسی انسان کو اپنے قبضہ میں کر لیتا ہے تو اس کے دماغ کومفلوج کر دیتا ہےتاکہ وہ سچائی کو پہچان نہ سکے۔اس حوالہ میں ہم دیکھتے ہیں کے اس آدمی کا دماغ مفلوج ہوچکا ہے۔اُسکی عقل نے کام کرنا بند کردیا ہےاچھائی اور برائی کی پہچان نہیں رہی۔جوکام وہ کرتا ہے اُسکے اچھے اور برےپہلو کوجو نہیں جانتا۔پولوس رسول بیان کرتے ہیں کہ اگر سمجھتے تو جلال کے خداوندکو مصلوب نہ کرتے۔1 کرنتھیوں 8:2

جب دماغ مفلوج ہے تو انسان کی حالت کیا ہے؟
١۔ وہ ننگا ہے۔ لوقا27:8 یعنی بے ادب” اپنے آپکی پہچان نہیں ننگا ہونا یہ بے حیائی ہے۔اس آدمی کو شرم وحیا کو کچھ علم نہیں۔معاشرتی زندگی میں لباس انسان کی شخصیت کا آئینہ دار ہے۔یہ آدمی ننگا ہے اُسےاپنی شخصیت کا کوئی احساس نہیں۔آج بھی جب ابلیس کسی کے دماغ پر قبضہ کرلیتا ہے تو اُسے اپنی شخصیت کا خیال نہیں رہتا۔ وہ بے ادب بن جاتا ہےاور اپنے آپکو زخمی کرتا ہے۔
٢۔ اُسے اپنے گھر کی پہچان نہیں رہتی (لوقا 27:8)۔
وہ گھر میں نہیں بلکہ قبروں میں رہا کرتا تھا۔انسان کی انتہائی کوشش ہوتی ہے کہ اس کے لئے اچھا گھر ہو ایک ٹھکانا ہو اُسکے عزیز رشتہ دار اور خاندان ہو۔اسکے دکھ درد میں کوئی شریک ہونے والا ہو۔مگر ابلیس یہ پہچان اور احساس ختم کردیتاہے۔اُسے اچھی بُری محفلوں کی پہچان نہیں رہتی۔یہ آدمی خاندان چھوڑ کر قبرستان میں رہتا ہے۔جہاں خاموشی ہے مُردوں کی ہڈیاں ہیں۔نشہ بازوں کو دیکھیں یہ ابلیس کا کام ہے گھر سے بے گھر کچراکنڈیوں اور گندی جگہوں پر بیٹھ کر نشہ کرتے ہیں۔بیوی بچوں کا خیال نہیں سارے رشتے ناطے نشہ پر قربان کر دیتے ہیں۔بعض حضرات دولت کی وجہ سے ابلیسی شکنجوں کا شکار ہوجاتے ہیں اپنے پرائے کی پہچان نہیں کر پاتے۔

 لاقانونیت۔
وہ بیابانوں میں بھاگتا ہے اُ س کے آگے کوئی چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی۔یہ بھی ابلیس کا ایک ہتھیار ہے کہ وہ فرمانبرداری کے سارے بندھن توڑ دیتا ہے۔اُس آدمی کو زنجیروں سے جکڑا گیا مگر کچھ فائدہ نہ ہوا۔اسکا مطلب یہ ہے کہ جب ابلیس انسان کی زندگی پر سوار ہوجاتا ہے تو انسان مذہبی اور ملکی قوانین کی پرواہ نہیں کرتا۔
وہ ساری زنجیریں توڑ دیتا ہے۔اور ہم مذہبی قانون میں دیکھتے ہیں کہ انسان طلاق نہ دے مگر معاشرہ کیا کر رہا ہے۔متی 6:19
مذہبی قانون دو بیویاں رکھنے کی اجازت نہیں دیتا۔ ملاکی 15:2
مذہبی قانون عورتوں کو بال کٹوانے کی اجازت نہیں دیتا۔ 1کرنتھیوں 11باب 6-16
مذہبی قانون عورتوں کو مردوں کے کپڑے پہننے کی اجازت نہیں دیتا۔ استثنا5:22
اور اسی طرح ملکی قانون ہمیں رشوت سے منع کرتا ہے ۔حقوق و فرائض پر پابندی کا حکم دیتا ہے۔مگر اپنے ہی وطنِ عزیز میں دیکھیں ٹیکس نہ دینا۔قتل غارتگری ۔رشوت لینا اور دینا عروج پر ہے۔

اِن کا علاج
جب یہ آدمی یسوع مسیح کو پکارتا ہے اور یسوع مسیح اِس کی زندگی میں آیا تو یہ تبدیلیاں اُس میں آئیں۔
١۔ ڈسپلن
اُس کو دوسروں کی پہچان ہو گئی اور وہ ادب کے ساتھ یسوع مسیح کے قدموں میں بیٹھ گیا۔
٢۔ اپنی پہچان ہو گئی
اس نے کپڑے پہنے، ننگا پن ختم کر دیا۔
٣۔ لاقانونیت ختم وہ فرمانبردار بن گیااور خدا کی تمجید کرنے لگا۔

آئیں ہم خداوند یسوع مسیح کو پکاریں اور اس کے قدموں میں آئیں۔ کیونکہ جب ہم اس کے اور وہ ہمارا ہے تو ابلیس کے تمام تر ہتھکنڈے ہم پر بے اثر رہیں گے۔

پادری کرامت مسیح
بہاول پور۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں