708

روح القدس اور آگ کا بپتسمہ

میں تو تم کو توبہ کے لئے پانی سے بپتسمہ دیتا ہوں لیکن جو میرے بعد آتا ہے وہ مجھ سے زورآور ہے۔ میں اس کی جوتیاں اٹھانے کے لائق نہیں۔وہ تم کو روح القدس اور آگ سے بپتسمہ دے گا (متی 11:3)۔

روح القدس سے بپتسمہ
روح القدس سے بپتسمہ کا بیان متی 11:3، مرقس 8:1، لوقا 16:3، یوحنا 33:1، اعمال 5:1 اور 16:11 میں موجود ہے۔
ہمارے مسیحی معاشرے میں یہ خیال عام ہے کہ جو شخص دوران عبادت غیرزبانیں بولتا ہے یا شفااور معجزات بانٹتا ہے، وہی روح القدس سے معمور شخص ہے (یعنی اس کے پاس روح القدس ہے) اور اس کو روح القدس کے بپتسمہ کا تجربہ حاصل ہے۔
کچھ لوگ جنہیں روح القدس حاصل کرنے کا شوق ہوتا ہے وہ ایسی عبادتی تقاریب میں شرکت کرتے ہیں جہاں پر روح القدس کو اونچی اونچی دعائیں کرنے، دعائیہ کورس گانے اور پھر تیز تیز دعائیں کرنے کے وسیلہ سے مدعو کیا جاتا ہے۔
اور پھر جن کو تیز تیز دعائیں کرنے کے وسیلہ سے غیرزبانیں عطا ہوتی ہیں، وہ روح القدس کے اہل گروہان میں شریک ہوجاتے ہیں اور دوسرے لوگ جن کو ایسی نعمتیں عطانہیں ہوتیں، ناچیز/غیرروحانی سمجھنا شروع ہوجاتے ہیں۔
ہمارے ہاں اکثر یہ بپتسمہ انگریز خدام کی موجودگی یا شفائیہ/بشارتی عبادتوں میں واقع ہوتا ہے۔
عام طور پر لوگ اس بات پرایمان رکھتے ہیں کہ روح القدس کا بپتسمہ کسی شخص کی نجات یا اس کے کچھ بعد واقع ہوتا ہے (ایسے لوگ بھی بائبل مقدس میں سے حوالہ جات پیش کرتے ہیں مگر سیاق وسباق کے ساتھ ان کا مطالعہ کرنے یا کروانے سے گریز کرتے ہیں)۔
جبکہ بائبل مقدس کے مطابق یہ روح القدس ہی ہے جو ہم پر ظاہر کرتا ہے کہ ہماری روحانی حالت کیا ہے (یوحنا 16: 8-9) اور ہمیں نجات کے لئے یسوع مسیح ہمارے نجات دہندہ کی ضرورت ہے (اعمال 11: 15-18)۔
یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ روح القدس کا بپتسمہ کسی بھی شخص کی تبدیلی کے وقت واقع ہوتا ہے اور روح القدس ہی ہماری یسوع مسیح کی طرف اورپاکیزگی و راست بازی کی زندگی گزارنے میں ہماری رہنمائی کرتا ہے (1کرنتھیوں 13:12)۔
اس کا آسان مطلب یہ بھی ہے کہ ہر حقیقی مسیحی کو روح القدس (سے معمورہے) کے بپتسمہ کا تجربہ حاصل ہے ۔
غیرزبانوں، شفا اور معجزات وغیرہ سے اس کی تصدیق کرتے پھرنا ہماری کم عقلی ، غیر بائبلی اورنامی مسیحی ہونے کا واضح نشان ہیں۔
مزید حوالہ جات: اعمال 37:2، 2 کرنتھیوں 7: 9-10

آگ کا بپتسمہ
مقدس مرقس اور یوحنا (متذکرہ بالا حوالہ جات ملاحظہ ہوں) روح القدس کے بپتسمہ کی بات کرتے ہیں مگر مقدس متی اور لوقا روح القدس اور آگ کے بپتسمہ کو بیان کرتے ہیں۔ اگر ہم ان حوالہ جات کا سیاق وسباق کے ساتھ مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ آگ کا بپتسمہ عدالت کے تعلق سے ہے اور اس کا اطلاق ان لوگوں پر ہوگا جو یسوع مسیح پر ایمان نہیں لاتے یا لائیں گے (غور سے مطالعہ کریں کہ یوحنا اصطباغی ان الفاظ کو کن کو مخاطب کرکے کہہ رہا ہے، متی 11:3، لفظ “تم” غورطلب ہے)۔
بائبل مقدس یہ بیان کرتی ہے کہ خداوند یسوع اپنے قوی فرشتوں کے ساتھ بھڑکتی ہوئی آگ میں آسمان سے ظاہر ہوگا اور جو خداکو نہیں پہچانتے اور ہمارے خداوند یسوع کی خوشخبری کو نہیں مانتے ان سے بدلہ لے گا۔
(2 تھسلنیکیوں 1: 7-8، یوحنا 5: 21-23، یہوداہ 15:1 ،مکاشفہ 20: 11-15)۔
پس بائبل مقدس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ روح القدس کا بپتسمہ ان لوگوں کے لئے جو مسیح یسوع پر ایمان لاتے ہیں
اور
آگ کا بپتسمہ اس عذاب کو ظاہر کرتاہےجو ان لوگوں کے لئے ہے جو خدا کو نہیں پہچانتےاور ہمارے خداوند یسوع کی خوشخبری کو نہیں مانتے۔
مزید یہ اگر ہم بائبل مقدس میں روح القدس کے حوالے سے یسوع مسیح کے وعدوں کا مطالعہ کریں تو ہم پر یہ ظاہر ہوجائے گا کہ روح القدس (کی معموری) کا بپتسمہ ہی ایمانداروں کو حاصل ہوتا ہے /ہوگا (ملاحظہ ہو یوحنا کی انجیل اور رسولوں کے اعمال) ناکہ آگ کا۔
عزیز قارئین کو اس بات کا اندازہ ہوگیا ہوگا کہ کسی بھی حوالہ کا سیاق و سباق کے ساتھ مطالعہ کس قدر ناگزیرہے۔

خداوند خدا کا روح القدس آپ کی رہنمائی فرمائے۔

بارک اللہ فیک

رائیٹ ریورنڈ ارسلان الحق
ستلج ریفارمڈ چرچ آف پاکستان
نیشنل مشنز آفس بہاول پور۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں