818

باپ اور بیٹے اور روح القدس کے نام سے بپتسمہ اور یسوع مسیح کے نام پر بپتسمہ میں کیا فرق ہے؟

ایک ہی بدن ہے اور ایک ہی روح۔ چنانچہ تمہیں جو بلائے گئے تھے اپنے بلائے جانے سے امید بھی ایک ہی ہے۔ ایک ہی خداوند ہے۔ ایک ہی ایمان۔ ایک ہی بپتسمہ۔اور سب کا خدا اور باپ ایک ہی ہے جو سب کے اوپر اور سب کے درمیان اور سب کے اندر ہے (افسیوں 4 باب 4 تا 6 آیت)۔
بائبل مقدس میں ہمیں مسیح یسوع کا ارشاد اعظم ملتا ہے جس میں غیراقوام کو شاگرد بنانے اور ان کو باپ اور بیٹے اور روح القدس کے نام سے بپتسمہ دینے کا حکم ملتا ہے (متی 19:28)۔ عید خمسین (پینتی کوست) کے دن پطرس غیراقوام سے مخاطب ہوتا ہے کہ تم میں سے ہر ایک اپنے گناہوں کی معافی کے لئے یسوع مسیح کے نام پر بپتسمہ لےتو تم روح القدس انعام میں پاؤ گے (اعمال 38:2)۔ اس کے علاوہ اعمال کی ہی کتاب کے آٹھویں، دسویں اور انیسویں باب میں ہم مختلف واقعات کا بیان پڑھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں نے خداوند یسوع کے نام کا بپتسمہ لیا۔
پس اس سے کچھ لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ بپتسمہ یسوع مسیح کے نام میں دینا چاہیے نا کہ باپ اور بیٹے اور روح القدس کے نام سے۔ اور مزید یہ کہ ان دونوں بپتسموں میں فرق ہے۔ اور کچھ لوگ تو روح القدس کے نزول کی وجوہات بھی بپتسمہ کے فرق پر ڈال دیتے ہیں۔

کیا ان دونوں بپتسموں میں کوئی فرق ہے؟
عالم گیر کلیسیا ان دونوں حوالہ جات کے استعمال اور بپتسموں کے بیان میں کوئی فرق نہیں کرتی۔
اس مسئلہ کی بنیاد سراسر تنظیمی ہے اور عام طور پرصرف یونائٹیڈ پینتی کوسٹل چرچ کے لوگ اس موضوع پر بحث کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔اس تنظیم کی ابتدا 1945ء میں ہوئی اور یہ مسیحی عقیدہ تثلیث ودیگرکے مخالف ہیں۔
آئیے دیکھیں کہ یسوع مسیح نے بپتسمہ دینے کا حکم کیوں دیا اور ان دونوں بپتسموں میں صرف الفاظ کا فرق ہے یا کچھ اور بھی۔

بپتسمہ کے آغاز کی وجہ
بپتسمہ کا آغاز یسوع مسیح کی منادی اور خدمت کے آغاز سے پیشتر ہی یوحنا بن زکریاہ نے کردیا تھا۔ لوقا3: 2-6 
مذکورہ حوالہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یوحنا بھی لوگوں کو گناہوں کی معافی کے لئے توبہ کے بپتسمہ کی منادی کررہا تھا۔
یسوع مسیح نے یوحنا بن زکریاہ سے بپتسمہ لینے (لوقا 3: 21-22) اور بیابان میں چالیس روز فاقہ کرنے کے بعد گناہوں سے معافی کے لئے توبہ اور آسمان کی بادشاہی کی منادی شروع کی۔
اگر ہم انجیلی بیانات کا بغور مطالعہ کریں تو یوحنا اصطباغی اور یسوع مسیح کی منادی کے کلیدی الفاظ توبہ اور آسمان کی بادشاہی تھے۔
یوحنا کی انجیل کے تیسرے باب سے معلوم ہوتاہے کہ یسوع اور اس کے شاگرد یہودیہ میں آئے اور وہاں یسوع ان کے ساتھ رہ کر بپتسمہ دینے لگا (یوحنا 3: 22-23) اور یہ کہ یوحنا اصطباغی اور یسوع مسیح بیک وقت (یوحنا3: 26-30) بپتسمہ دیتے تھے۔ یوحنا کی انجیل کا چوتھا باب ہی اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ یسوع آپ نہیں بلکہ اس کے شاگرد بپتسمہ دیتے تھے (یوحنا 4: 1-2)۔
یسوع مسیح نے اپنے صعود آسمانی سے قبل ارشاد اعظم اپنے شاگردوں کے سپرد کیا اور مسیحی عالم گیر کلیسیا آج تک اس ارشاد اعظم پر عمل پیرا ہے۔
پیدایش کی کتاب کا سترہواں باب اور توریت کی دیگر کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیلی قوم کا حصہ بننے کے لئے ختنہ کی رسم ادا کی جاتی تھی۔ لہذا مسیحیت کو یہودیت سے جدا رکھنےکے لئے (جیسا کہ بہت سے لوگ آج بھی سمجھتے ہیں کہ مسیحیت یہودیت کی ہی ایک قسم ہے) اور سب قوموں کو مسیحیت کا حصہ بنانے کے لئے ہمارے خداوند مسیح یسوع نے بپتسمہ رائج کیا۔ یہ ایک سادہ اور آسان عمل ہے جس سے یہودی خواہ یونانی یا کوئی بھی مسیح یسوع پر ایمان لاکر اس رسم کی ادائیگی سے مسیحی بن سکتا ہے۔یادرہے ایمان لانا پہلا قدم اور بپتسمہ ثانوی ہے۔

یسوع کے نام پر بپتسمہ
یسوع مسیح کے نام پر بپتسمہ لینے سے مراد یسوع مسیح کے اختیار کو بروئے کار لاتے ہوئے بپتسمہ دینا ہے یعنی وہی بپتسمہ جس کا ذکر یسوع مسیح نے متی 28:19 میں کیا ہے یعنی باپ اور بیٹے اور روح القدس کے نام سے بپتسمہ۔
چونکہ یہودی اور ان کے علاقہ جات کے اردگرد کے لوگ یوحنا اصطباغی اور یسوع مسیح دونوں کے بپتسمہ سے واقف تھے لہذا یسوع مسیح کے نام پر بپتسمہ لینے سے مراد یہ بھی ہے کہ یہ وہی بپتسمہ ہے جس کا حکم یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں کو دیا ہے (متی 28:19)۔
مزید یہ کہ یسوع مسیح کے نام پر بپتسمہ لینے سے مراد یسوع مسیح کو خداوند اور نجات دہندہ مان کر بپتسمہ لینے کا اختصاری بیان ہے۔
لہذا قارئین باآسانی اس فرق کو سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ محض لفظی فرق ہے۔
نجات یسوع مسیح پر ایمان لانے سے واقع ہوتی ہے اور نجات ایک ایسا عمل ہے جس میں خدا کی تینوں شخصیات باپ اور بیٹا اور روح القدس کارفرما ہوتے ہیں۔
خداوندخدا بپتسمہ کے ذریعے ہم میں وحدت اور یگانگت کو قائم کرتا ہے۔
بپتسمہ لینا مسیح یسوع پر ایمان لا کر گناہوں کا اقرار کرکے ترک کرنے، گناہوں سے معافی، ہمیشہ کی زندگی کی وارث ہونے اور آسمان کی بادشاہی جو کہ مسیح کی بادشاہی ہے کا حصہ بننے کا واضح نشان اورگواہی ہے۔

بارک اللہ فیک

رائیٹ ریورنڈ ارسلان الحق
ستلج ریفارمڈ چرچ آف پاکستان
نیشنل مشنز آفس بہاولپور۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں