671

مسیحی شادی اور اقلیتیں – بالخصوص پاکستانی مسیحی

بائبل مقدس صاف صاف بتاتی ہے کہ خدا نے عورت کی تخلیق کیوں کی (پیدایش (2باب18تا25آیت) آدم کے لئے عورت کا بطور مددگار تخلیق کیا جانا ، ملاکی (15:2)، مرقس (10: 6-9)، 1 کرنتھیوں 7: 1-2)۔
اب بات کرتے ہیں شادی کی۔ یہ وہ مقدس اورخوبصورت بندھن ہے جسے خود خدا نے عدن کے باغ میں مرد اورعورت کے مابین باندھا (پیدایش 22:2)۔
یسوع مسیح نے قانائے گلیل میں ایک شادی میں شرکت کرکے اس موقع کواور زیادہ رونق بخشی (یوحنا 2: 1-11)۔
بائبل مقدس کے مطابق شادی ایک خوبصورت عہد (مابین ایک مرد اور عورت کے) ہے اور لازم ہے کہ اس کے متعلق سنجیدگی سے سوچ بچار کیا جائے اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا جائے (عبرانیوں 4:13)۔
پاکستانی مسیحی ان باتوں کو خوب جانتے ہیں مگر پھر بھی کچھ ایسی باتیں ہیں جوہمیں روزمرہ زندگی میں دیکھنے کو ملتی ہیں۔

۔ پاکستانی مسیحی لڑکیوں کا تعلیم یافتہ ہونا اور مسیحی لڑکوں کی ناخواندگی/کم تعلیم یافتہ ہونا
پاکستان میں مسیحی لڑکیاں عموماً مسیحی لڑکوں سے زیادہ تعلیم یافتہ ہیں۔ اس لئے کوئی تعلیم یافتہ یہ نہیں چاہتا کہ اس کی شادی کسی کم تعلیم یافتہ یا ان پڑھ سے ہو۔

 
۔ معاشی حالات/غربت
مسیحیوں کی معاشی حالت کا بھی سب کو علم ہے۔ اسی لئے پکی نوکری، بےروزگاری، جہیز کا سامان خریدنا، سب رشتے وناطے دار مدعو کرکےان کی باتیں مان کرخوش کرنے کی سوچ وغیرہ بھی شادی میں رکاوٹ کی ایک وجہ ہے۔

 
۔ گروہی/سماجی فرقہ واریت
رومن کاتھولک دوسرےکلیسیائی گروہوں میں شادی کرنا پسند نہیں کرتے تھے اور بعض ابھی تک ایسا ہی کرتے ہیں یا بعض رومن کاتھولک والدین کو دوسرے کلیسیائی گروہان کے کئے گئے نکاح پریقین نہیں ہوتا ۔ ان سب باتوں سے بالاتر ہوکرمسیحی ہونے کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
سماجی نکتہ نظر سے بھی مسیحی ایک دوسرے میں شادیاں کرنا پسند نہیں کرتے۔ مثال کے طورپرزیادہ پڑھے لکھے خاندان/زمیندار گھرانے (چاہے ان میں ان پڑھ افراد ہی کیوں نا ہوں) صفائی جیسے شعبوں سے منسلک لوگوں (چاہے وہ پڑھے لکھےہی کیوں ناہوں) سے شادی بیاہ کے لئے تعلقات قائم کرنا پسند نہیں کرتے۔
چونکہ پنجابیوں میں بھی مختلف گروہان ہیں یعنی سیالکوٹی، فیصل آبادی، لاہوری، جالندھری اور گرداسپوری پنجابی وغیرہ تو ہرایک کی شادی بیاہ سے متعلق کچھ منفرد رسومات ہیں۔ ان کی شان میں کمی واقع ہوجاتی ہے اگر وہ شادی بیاہ کے معاملات میں وہ رسومات ادا نہ کریں کیونکہ ایسا کرنے سے ان کی برادری سمجھے گی کہ وہ غریب ہیں اور شادی نامکمل متصورہوگی (بائبل مقدس اور مسیحیت سے زیادہ انسانی رسومات کو ترجیح)۔

 
۔ پسند کی شادی کے لئے تبدیلی مذہب
ایک دوسرے کو پسند کرنے والے جوڑے مختلف اقسام کے مسائل کو برداشت کرتے ہیں (یہاں صرف جائز رشتوں کے مابین شادی کی بات کی جارہی ہے) مثال کے طور پر والدین کا کسی بھی وجہ سےرضامند نہ ہونا، مالی حالات وغیرہ تو لڑکا لڑکی کسی مدرسے میں یا عدالت میں جا کر تبدیلی مذہب کے مرتکب ہوکر شادی کرلیتے ہیں جس کی وجہ سے شادی کے بعد زیادہ مسائل کا سامنا کرناپڑتاہے۔

 
۔ جبری تبدیلی مذہب اور شادیاں
یہ ایک واضح بات ہے کہ اکثریت اقلیت کو دباتی ہے اورکبھی بھی نہیں چاہتی کہ اقلیت اکثریت کی برابری حاصل کرے (خروج 1: 8-14)۔ جب اکثریت کے لوگ اقلیتی گروہان سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کی جانب دیکھتے ہیں تو پہلے مختلف طرح سے پھنساتے اور مختلف چیزوں کالالچ دیتے ہیں ۔ جب اس سب سے کام نا چلے تو من مانی کرنے کے لئے جبراً مذہب تبدیل کرواتے ہیں مابعد شادی کرلیتے ہیں مگر عموماً یہ شادیاں محض جنسی تسکین حاصل کرنے، اپنا اثرورسوخ ثبت کرنے اور ثواب کمانے کے لئے کی جاتی ہیں۔

 
بائبل مقدس سے دوری اور مسیحی تعلیم سے ناواقفیت ہمارے مسائل کی بنیادی وجہ ہے۔

ہم شادی بیاہ کے معاملات ، رسومات اور تقریبات میں

خدا کو کم اور رشتے وناطے داروں کو شریک کرنے کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔
بائبلی تعلیمات کو کم اور اپنی معاشرتی رسومات کو ترجیح دینا زیادہ پسند کرتے ہیں۔
اگر کوئی پسند کی شادی کرلے تو اسے اس کے گھر والے اور ناطے دار باربار طنز کرنے سے باز نہیں رہتے۔
لوگ انٹرنیٹ ، موبائل فون اور سوشل میڈیا کی وجہ سے معاشرے میں پڑنے والے بگاڑ کی بات کرتے ہیں مگر بھول جاتے ہیں کہ ایسی بے راروی کا تذکرہ آج سے کئی سوسال پہلے لکھی گئی بائبل مقدس میں کیا جاچکا ہے۔لہذا بائبل مقدس ہمیں تلقین اور متنبہ کرتی ہے کہ ہم مسیحی ہرلحاظ سے محتاط رہیں۔

لہذا اب کیا کیا جائے؟
پاکستان میں شناختی کارڈ کے لئے عمر کی حد کم ازکم18 سال متعین کی گئی ہے۔ اگر آپ سوچتے ہیں کہ آپ کواس سے پیشتر ہی اپنی اولاد کی شادی کر دینی چاہیے تو عمر کی حد کم ازکم 16 سال ہے۔
اٹھارہ سال یا اس سے زیادہ عمر کا فرد اپنے ذاتی معاملات اورزندگی گزارنے کےمتعلق فیصلے ازخود کرسکتا ہے۔اولاً تو والدین کو رشتے کے لئے مان جانا چاہیے وگرنہ وہ گرجاگھر میں جاکر اپنی مذہبی رہنما سے نکاح کرواسکتے ہیں۔
شادی بیاہ کے معاملات میں مسیحی ہونے کو ترجیح دی جانی چاہیےکیونکہ مسیح یسوع اور اس کے شاگردوں نے کلیسیا کو کلیسیائی و معاشرتی طورپر ایک دوسرے سے محبت کرنے کی تلقین کی ہے۔ علاوہ ازیں فضول اقسام کی رسومات (سب پنجابی بخوبی جانتے ہیں کہ وہ رسومات کونسی ہیں)، پر پیسا برباد کرنے سے گریز کریں کیونکہ ان کا بائبل مقدس اور اس کی تعلیمات سے کوئی تعلق نا ہے۔اس طرح آپ شادی بیاہ کے موقع پرقرضوں کے حصول سے بھی بچ سکتے ہیں۔لوگوں کی باتیں سننے کی فکر ناکریں کیونکہ لوگوں کے پاس بہت سافضول وقت ہے دوسروں کے گریبان میں جھانکنے اور باتیں کرنے کے لئے۔

 
غیرشادی شدہ افراد: اگر آپ پسند کی شادی کرنا چاہتے ہیں اور آپ کے گھر والے نہیں مان رہے تو آپ اپنے کلیسیائی رہنما /کلیسیائی انتظامی بورڈ سے رابطہ کریں تاکہ وہ آپ کے نکاح کا بندوبست کریں۔
والدین: اگر آپ اپنی اولاد کے لئے فکرمند ہیں اور مختلف مسائل (متذکرہ بالا یا دیگر) کا شکار ہیں تو آپ بھی اپنے کلیسیائی رہنما اور کلیسیائی انتظامی بورڈ سے رابطہ کریں تاکہ اس کام میں وہ آپ کے مددگار ہوں۔

 
!بارک اللہ فیک

 
رائیٹ ریورنڈ ارسلان الحق
ستلج ریفارمڈ چرچ آف پاکستان
نیشنل مشنز آفس بہاولپور۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں